
گوجرانوالہ(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کی خاتون ٹیچر نے 10لاکھ ڈالر مالیت کا ’عالمی ٹیچر پرائز2023ئ‘ جیت لیا۔ ڈیلی پاکستان گلوبل کے مطابق سسٹر زیف کا تعلق صوبہ پنجاب کے شہر گوجرانوالہ سے ہے، جنہوں نے پسماندہ علاقے میں بچوں کو تعلیم دینے کا سلسلہ شروع کیا۔ وہ عالمی سطح پر بہترین معلم کے طور پر جانی جاتی ہیں۔
گلوبل ٹیچر پرائز کی آفیشل ویب سائٹ کے مطابق سسٹر زیف کے والدین انہیں سکول بھیجنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔ اسی محرومی نے انہیں بچوں کی تعلیم کے لیے کام کرنے کا جذبہ دیااور انہوں نے صرف 13سال کی عمر میں اپنے گھر کے صحن میں ایک سکول کی بنیاد رکھی۔ وہ 8گھنٹے اس سکول کے لیے فنڈز جمع کرنے کا کام کرتیں اور 4گھنٹے بچوں کو پڑھایا کرتی تھیں۔ بچوں کو پڑھانے کے بعد وہ رات گئے تک خود پڑھتی تھیں۔
سسٹر زیف کی انتھک محنت کی بدولت 26سال بعد اس سکول کی نئی عمارت بن گئی جہاں 200سے زائد مستحق بچوں کو مفت تعلیم دی جاتی ہے۔وہ بچوں کو پڑھانے کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کو سیلف ڈیفنس کی کلاسز بھی دیتی ہیں۔ وہ نادار بچوں کے والدین کے بجلی کے بل بھی ادا کرتی ہیں۔
اس کے علاوہ انہوں نے ایک ووکیشنل سنٹر بھی کھول رکھا ہے جہاں 6ہزار سے زائد خواتین آئی سی ٹی، ٹیکسٹائل اور انگریزی زبان میں مہارت حاصل کر رہی ہیں۔ سسٹر زیف کا کہنا ہے کہ وہ گلوبل ٹیچر ایوارڈ سے ملنے والی 10لاکھ ڈالر کی رقم سے 10ایکڑ پر ایک سکول تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں، جہاں ملک کے غریب ترین خاندانوں کے بچوں کو تعلیم دی جائے گی۔
واضح رہے کہ اس ایوارڈ کے لیے 130ممالک سے 7ہزار سے زائد امیدواروں نے شرکت کی تھی، جن میں سے سسٹر زیف فاتح قرار پائیں۔ان کی جیت کا اعلان اداکار،کامیڈین اور مصنف سٹیفن فرائی نے کیا۔
