74

دین متین اور تینوں چیف – انوار اعوان


دین متین اور تین چیف

‎اللہ تعالیٰ کا ایک صفاتی نام ’’متین‘‘ بھی ہے۔ اس کا معنی انتہائی مضبوط اور غالب ہے۔ دین کا معنی نظام اورسسٹم ہے۔ اللہ کے نظام کا نام ’’اسلام‘‘ ہے۔ اسلام کو دینِ متین اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ ایسا مضبوط سسٹم اور نظام ہے کہ کسی کو اس نظام اور اس سسٹم سے نکالنا آسان نہیں بلکہ انتہائی مشکل ہے۔ اس پر ہمارے جلیل القدر علما اور اسلاف نے جو حدودوقیود لگائی ہیں، ان کو نظرانداز کر کے جو شخص کسی کو اس نظام سے نکالنے کا فتویٰ لگائے گا وہ زمین میں فساد مچائے گا۔ لہٰذا یہ نازک کام ریاست کا ہے اور اس کی نگرانی میں جلیل القدر علما کا ہے۔
‎ایک جنگی معرکے سے صحابہؓ واپس آئے۔ حضورؐ کے سامنے رپورٹ پیش ہونے لگی تو ایک شخص نے حضورؐ سے عرض کیا، اسامہ بن زیدؓ نے اپنے مدمقابل ایسے شخص کو قتل کر دیا کہ جس نے کلمہ پڑھ لیا تھا۔ حضورؐ نے حضرت اسامہ بن زیدؓ کو جوابدہی کے لئے کھڑا کر لیا۔ وہ اپنی صفائی میں عرض گزار ہوئے: یا رسول اللہؐ! اس نے مجھ پر حملہ کیا، میں نے ڈھال سے اس کا حملہ روکا، اب میری زد میں جب وہ آیا تو اس نے کلمہ پڑھ لیا۔ اس نے جان بچانے کے لئے کلمہ پڑھا تھا۔ اس پر حضورؐ غصے میں آ گئے، فرمایا! تم نے اس کا دل چیر کر دیکھ لیا تھا کہ وہ اخلاص سے پڑھ رہا تھا یا جان بچانے کے ڈر سے پڑھ رہا تھا۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کو کیا جواب دو گے، جب وہ لاالہ الا اللہ کہتے ہوئے آئے گا۔ حضرت اسامہؓ کہتے ہیں حضورؐ نے مندرجہ بالا بات کو اس قدر دہرایا کہ میں سوچنے لگ گیا کہ کاش! میں آج مسلمان ہوتا۔۔۔ (یعنی ایک مسلمان کے قتل سے بچ جاتا، حضورؐ کے غصے سے محفوظ ہو جاتا۔ قیامت کے دن کی جوابدہی سے بچ جاتا)۔ (بخاری: 4019)
‎لوگو! ہم آج کے مسلمان کس قدر دلیر اور جری ہیں کہ حضورؐ کا کلمہ پڑھنے والوں کا رشتہ اللہ اور اس کے پیارے رسولؐ سے کاٹتے ہیں۔ فتویٰ لگاتے ہیں اور ساتھ ہی قاضی بن کر لوگوں کو کہتے ہیں کہ جن کا رشتہ ہم نے اللہ کے رسولؐ سے کاٹ دیا ہے، ان کو کاٹ ڈالو، یعنی پوری قوم کو جلاد بن جانے کا حکم ارشاد فرماتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ ایسے رویے ہمیں برباد کر دیں گے۔ امن کو غارت کر دیں گے، اسلام کو بدنام کر دیں گے، وطن عزیز پاکستان کو خطرے سے دوچار کر دیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہماری اصلاح فرمائیں، سسٹم اور نظام میں رہنے کی توفیق ملے۔ اسلام کا نظام ’’متین‘‘ ہے۔ ایک حصار اور مضبوط قلعہ ہے۔ وہ مکڑی کا جالا نہیں ہے کہ کسی کے اشارے سے کسی محبِ رسولؐ کی محبت کے تار بکھر جائیں گے۔ رسول کریمؐ سے محبت کا حصار تو ایسا متین اور مضبوط ہے کہ ’’حرمتِ رسولؐ پر جان قربان اور ختم نبوت پر خاندان قربان ہے‘‘
‎اللہ کے رسولؐ کی حدیث ہے۔ اللہ کے حضور دعائیہ انداز میں ہے۔ ’’جو شخص زمین پر اللہ کے سلطان (حکمران) کی توہین کرے۔ اللہ تعالیٰ اس کو ذلیل کر دے۔ (ترمذی: 2224، حسن)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں